توفیق عطا فرمائے۔
میں اپنے خاندان کا واقعہ بیان کرتا ہوں کہ والدین کے نافرمان بیٹے اور ان کی بیویاں... دو بیٹے شادی شدہ ہیں، لیکن جب باپ بیمار ہوتا ہے تو دونوں اپنی بیویوں کے کہنے میں آکر اٹھنے کی زحمت بھی نہیں کرتے۔ ایک ہی گھر میں رہتے ہیں، لیکن باپ اتنا بیمار ہے کہ خود چل کر باہر گاڑی تک نہیں جا سکتا۔ بیٹے سن رہے ہیں کہ باہر کوئی آیا ہے جو باپ کو اسپتال لے جا رہا ہے، لیکن نہ تو انہیں رحم آیا، نہ ہی وہ دیکھنے کے لیے اٹھے۔ یہ وہی باپ ہے جس نے انہیں پالا پوسا، بڑا کیا، اور آج جب وہ بیمار ہے تو اسے ہسپتال لے کر جانے والا کوئی اور ہے۔
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تین شخصوں سے بات نہیں کرے گا، نہ انہیں دیکھے گا، نہ انہیں پاک کرے گا، اور ان کے لیے دردناک عذاب ہوگا: (1) وہ شخص جو اپنے والدین کا نافرمان ہو، (2) وہ شخص جو دوسروں پر احسان جتائے، (3) اور وہ شخص جو جھوٹی قسم کھا کر مال بیچے۔" (صحیح مسلم، حدیث 106)
افسوس ایسی اولاد پر جس کے دل میں ذرا برابر بھی رحم نہیں آیا۔ وہ وہیں بیویوں کے ساتھ لیٹے رہے، اور جب ہسپتال سے باپ کو واپس لایا گیا، تب بھی وہ بے حس رہے۔ باپ جو بیماری کی وجہ سے چل نہیں پا رہا تھا، اسے گاڑی سے اتارنے بھی نہ آئے، حالانکہ وہ سب کچھ سن رہے تھے۔
کیا ہم لوگ اللہ کے عذاب کے مستحق نہیں ہیں؟
اور جب میں نے ان کی بیویوں سے پوچھا کہ یہ لوگ ایسا کیوں کر رہے ہیں، تو وہ کہتی ہیں: "جب تمہاری شادی ہو جائے گی، تب میں تم سے پوچھوں گی۔" میں نے جواب دیا: "اللہ مجھے ایسا کرنے کی توفیق ہی نہ دے!"
اللہ تعالیٰ ہم سب کو ہدایت دے اور والدین کی خدمت کرنے کی توفیق عطا فرمائے، کیونکہ جو اپنے والدین کے ساتھ اچھا سلوک کرتا ہے، وہ دنیا اور آخرت میں کامیاب ہوتا ہے۔ آمین۔
No comments:
Post a Comment